پاکستان میں سائنس کی ترویج کے لئے سائنسی گروپ

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

Thursday, January 16, 2020

آئن سٹائن کی ماس انرجی مساوات اور کچھ غلط فہمیاں

آئن سٹائن کی ماس انرجی مساوات اور کچھ غلط فہمیاں
تحریر:۔ ڈاکٹر محمد رحمان

میں اس صفحہ کو پچھلے چند ماہ سے فالو کر رہا ہوں اور ایک چیز جو تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہے وہ ہے آئن سٹائن ماس انرجی مساوات E=mc^2کے بارے میں چند غلط فہمیاں ۔ پاپولر سائنس ویب سائٹس اور فیس بک صفحات پر آنے والی تحاریر عام طور پر صحافی حضرات کے قلم کی مرہون منت ہوتی ہیں جو سائنسی موضوعات اور اصطلاحات پر مکمل عبور نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کی غلط فہمیوں کا باعث بنتی ہیں۔ میری کوشش ہے کہ اس پوسٹ میں ان میں کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکوں۔
نیوٹن کے قوانین آنے کے بعد سائنسدان یہ سمجھ رہے تھے کہ فزکس کا علم مکمل ہوچکا ہے مگر انیسویں صدی کے اختتام پر سائنسدانوں کو دو بڑے مسائل سے دوچار ہونا پڑا ان میں پہلا مسئلہ بلیک باڈی ریڈی ایشن کے سپیکٹرم کو نظریاتی طور پر سمجھنا اور دوسرا مسئلہ میکس ویل ایکویشنز اور نیوٹن کے قوانین کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ پہلے مسئلے کے حل کے لیے میکس پلانک نے الیکٹرومیگنیٹک انرجی کی کوانٹائزیشن کا تصور پیش کیا۔ اس تصور کے مطابق الیکٹرومیگنیٹک توانائی لہروں کی بجائے ذرات کی شکل میں سفر کرتی ہے ان ذرات کو کوانٹا یا فوٹان کا نام دیا گیا اسی تصور کو استعمال کرتے ہوئے آئن سٹائن نے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی تشریح کی جس کی وجہ سے آئن سٹائن کو نوبل انعام سے نوازا گیا۔ میکسویل کے اسی تصور کی بنیاد پر کوانٹم مکینکس کا پورا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا جبکہ دوسرے مسئلے کے حل کے لیے آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت خصوصی (سپیشل تھیوری آف ریلیٹیوٹی) پیش کیا۔ اس طرح فزکس کی دو انتہائی اہم شاخوں کی بنیاد پڑی۔ اگرچہ نظریہ اضافیت خصوصی، ٹائم ڈائلیشن اور لینتھ کنٹریکشن جیسے اچھوتے تصورات سے مزین ہے مگر اس نظریے کے جس پہلو نے عام عوام کو اپنی طرف سب سے زیادہ متوجہ کیا وہ ہے ایک مساوات جو کسی سسٹم کی توانائی کے بارے میں بتاتی ہے یعنیE=mc^2 ۔
اس مساوات کے سامنے آتے ہی عام لوگ جو سب سے پہلا نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ کمیت (یعنی ماس) اور توانائی (یعنی انرجی) دونوں میں کوئی فرق نہیں اور نہ صرف یہ بلکہ اس سے اگلا نتیجہ میکس پلانک کے انرجی کوانٹائزیشن سے یہ اخذ کر لیا جاتا ہے کہ انرجی فوٹان پر مشتمل ہے ۔اور یہیں سے فزکس کے ایسے تصورات سامنے آتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں۔
اگر نظریہ اضافیت خصوصی میں توانائی کی تعریف پر نظر ڈالی جائے تو وہ کچھ یوں ہے،
E=mc^2/sqrt(1-v^2/c^2)
اس مساوات میں اگر ذرے کی رفتار صفر ہو جائے تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ E=mc^2 حاصل ہوتا ہے لیکن اگر ذرے کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر آجائے تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ توانائی کی مقدار لامحدود ہو جائے گی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوپر والی مساوات کا اطلاق صرف ایسے اجسام پر کیا جاسکتا ہے جو کمیت کے حامل ہوں۔ بغیر کمیت والے ذرات جیسے کہ فوٹان کے لیے اوپر دی گئی مساوات استعمال نہیں کی جا سکتی۔
اسی طرح اس نظریہ میں مومینٹم کے لیے اگر P=mv والی تعریف استعمال کی جائے جس میں v سے مراد عام ولاسٹی ہو تو قانون بقائے مومینٹم کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے چنانچہ مومینٹم کی تعریف کے لیے P=m.eta کی مساوات استعمال کی جاتی ہے اس مساوات میں P فور موینٹم کو ظاہر کرتا ہے جبکہ eta سے مراد پراپر ولاسٹی ہے جو خود بھی فور ویکٹر ہے۔ آپ میں سے کچھ لوگوں کے لئے فور ویکٹر کا لفظ شاید نیا ہو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں مگر مومینٹم فور ویکٹر کی تعریف سےایک اور مساوات اخذ کی جاتی ہے جو کہ یہ ہے، E^2=m^2c^4+P^2c^2
اس مساوات کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی جسم روشنی کی رفتار کے قریب قریب سفر کر رہا ہو تو اس جسم کی مجموعی توانائی کا مربع اسکی حرکی توانائی (p^2c^2 ) اور غیر حرکی توانائی (m^2C^4 ) کے مجموعہ کے برابر ہوتاہے۔ یہاں یہ یاد رکھیں کہ جب تک ہم یہ واضح نہیں کرتے کہ اس مساوات کا اطلاق کس چیز پر ہو رہا ہے ہم اس مساوات سے کوئی مطلب اخذ نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر اگر ہم اس مساوات کا اطلاق ایک الیکٹران پر کریں اور وہ الیکٹران اگر ساکن حالت میں ہو تو ہم کہہ سکیں گے کہ الیکٹران کا مومینٹم چونکہ صفر ہے اس لئے الیکٹران کی مجموعی توانائی اسکی کمیت کو روشنی کی رفتار کے مربع سے ضرب دے کر معلوم کی جا سکتی ہے یعنی E=mC^2 ۔ لیکن اگر الیکٹران ساکن نہیں ہے تو اسکی مجموعی توانائی میں مومینٹم P کا حصہ شامل کرنا بھی لازمی ہے۔یہاں جو یہ بات ذہن میں ہونی لازمی ہے وہ یہ کہ یہ توانائی تو ہے مگر اس توانائی کا فوٹان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ فوٹان صرف الیکٹرومیگنیٹک توانائی کے ذرے کے طور پر لیا جا سکتا ہے اور الیکٹرومیگنیٹک توانائی کے علاوہ بھی توانائی کی کئی اقسام ہیں۔
دوسری مثال میں ہم اس مساوات (E^2=p^2c^2+m^2c^4 ) کا اطلاق فوٹان کے اوپر کر سکتے ہیں ۔فوٹان چونکہ ایک ماس لیس (کمیت کے بغیر) ذرہ ہے اس لیے اسکی مجموعی توانائی صرف حرکی توانائی کے برابر ہو گی یعنی E=PC ۔ اس صورت میں یہ ساری توانائی الیکٹرومیگنیٹک توانائی ہو گی۔
یہاں ایک اور الجھن جو عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر فوٹان کی کمیت نہیں ہوتی تو وہ مومینٹم کے حامل کیسے ہو سکتے ہیں۔ یہ الجھن بھی تب پیدا ہوتی ہے جب ہم فوٹان کو تو ایک ذرہ تصور کرتے ہیں جو کوانٹم مکینیکل تصور ہے مگر اسکے مومینٹم کے لیے کلاسیکل مکینکس کی تعریف استعمال کرتے ہیں۔یہاں آپ کو یہ مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ کلاسیکل مکینکس میں بغیر کمیت والے ذرے کا کوئی تصور موجود نہیں لہذا یہاں پر فوٹان کے مومینٹم کے لئے کوانٹم مکینکل تعریف استعمال کرنا ہو گی یعنی P=h/lambda ۔
اور ایک آخری الجھن جو نظریہ اضافیت عمومی کے بارے میں ہے کہ
” چونکہ E=mc^2 بتاتی ہے کہ کمیت اور توانائی ایک ہی چیز ہے اور کمیت اگر سپیس ٹائم فیبرک میں خم کا باعث بنتی ہے اس لیے انرجی بھی سپیس ٹائم فیبرک میں خم پیدا کر سکتی ہے اور انرجی چونکہ فوٹان ہے اس لیے فوٹان یعنی روشنی بھی سپیس ٹائم فیبرک میں خم پیدا کر سکتی ہے۔“
اوپر کی گئی گفتگو سے اب تک آپ پر یہ تو واضح ہو چکا ہو کہ صرف الیکٹرومیگنیٹک توانائی ایسی ہے جو فوٹان کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کے علاوہ بھی توانائی کی کئی اقسام ہیں اس لیے لازمی نہیں کہ جب بھی توانائی کا لفظ آئے تو اس سے مراد فوٹان ہی ہو۔ اب رہا یہ سوال کہ کیا توانائی سپیس ٹائم فیبرک میں خم پیدا کر سکتی ہے تو اس کے لئے ہمیں آئن سٹائن کی فیلڈ ایکویشنز G=kTکا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ یہ مساوات دیکھنے میں جتنی سادہ لگ رہی ہے اتنی سادہ ہے نہیں یہ مساوات ڈبل انڈیکس ٹینسر ز پر مشتمل ہے۔ آسانی کے لیے یہ سمجھ لیں کہ اس مساوات میں G جسے آئن سٹائن ٹینسر کہا جاتا اور T جسے سٹریس انرجی ٹینسر یا مومینٹم انرجی ٹینسر کہا جاتا ہے دونوں 4x4 میٹرکس ہیں۔ اس طرح اوپر دی گئی مساوات صرف ایک مساوات نہیں بلکہ سولہ مساواتیں ہیں جنہیں بیک وقت حل کرنا ضروری ہے۔ اوپر بیان کی گئی الجھن کا باعث عام طور پر سٹریس انرجی ٹینسر یا مومینٹم انرجی ٹینسر T ہے۔ یہاں پر بھی انرجی کا لفظ آتے ہی اس سے مراد فوٹان لے لیا جاتا ہے جوکہ سراسر غلط ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ سپیس ٹائم فیبرک میں خم کا باعث توانائی ہے مگر یہاں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ یہ توانائی کس شکل میں ہے۔ یاد رکھیں اس توانائی کا ذریعہ صرف اور صرف کمیت یعنی مادہ ہے۔ اگر تو مادہ ساکن حالت میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ توانائی کی صرف غیر حرکی قسم دستیاب ہے لیکن اگر مادہ حرکت میں ہے تو پھر حرکی اور غیر حرکی دونوں اقسام کی توانائی سپیس ٹائم فیبرک میں خم کا باعث بنتی ہے۔
آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ آئن سٹائن فیلڈ ایکویشنز کو حل کرنا اتنا پیچیدہ ہے کہ آئن سٹائن اس بات پر یقین رکھتا رھا کہ ان مساواتوں کا حل مستقبل قریب میں ممکن نہیں۔ اگرچہ آئن سٹائن کی یہ غلط فہمی جلد ہی دور ہو گئی جب شوارزشلڈ (Schwarzschild ) نے کچھ خاص حالات کے لیے ان مساواتوں کا حل پیش کیا ۔ مگر یاد رہے کہ ان مساواتوں کو مکمل طور پر حل کرنا آج بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس ساری گفتگو کا مقصد آپ کو صرف یہ بتانا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پاپولر سائنس ویب سائٹس پر اس نظرئیے کو پڑھ کر اس نظرئیے کے بارے میں ماہرانہ رائے دی جا سکتی ہے تو یہ ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

یہ کیا ہے